مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

اسلام آباد کے سرکاری فلیٹس کرائے پر دینے پر افسران کیخلاف مقدمہ

تصویر

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اسلام آباد کے سیکٹر جی-6 میں واقع سرکاری رہائشی فلیٹس پر غیرقانونی قبضہ کر کے انہیں نجی طور پر کرائے پر دینے کے سنگین الزام میں تین سرکاری افسران کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یہ کارروائی قومی املاک کے غلط استعمال اور مالی بدعنوانی کی روک تھام کے لیے کی گئی ہے۔

مقدمے کا پس منظر اور سی ڈی اے کا مؤقف

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مقدمہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے انفورسمنٹ ونگ کی جانب سے دائر کی گئی باضابطہ درخواست پر درج کیا گیا ہے۔ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ افسران پر یہ الزام عائد ہے کہ انہوں نے اپنے عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف سرکاری رہائش گاہوں پر قبضہ برقرار رکھا، بلکہ انہیں کرائے پر دے کر ذاتی مالی فوائد بھی حاصل کیے۔ اس عمل سے قومی املاک کا نہ صرف ناجائز استعمال ہوا بلکہ سرکاری خزانے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ یاد رہے کہ وفاقی دارالحکومت میں سرکاری املاک کے تحفظ کے لیے وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ: صنعتی اراضی کو رہائشی اسکیموں میں تبدیل کرنے پر پابندی پہلے ہی اہمیت کا حامل ہے، جس کے بعد سے سرکاری اراضی کی نگرانی میں اضافہ کیا گیا ہے۔

ایف آئی اے کی تحقیقات کا آغاز

سی ڈی اے کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ ایف آئی اے نے تینوں نامزد سرکاری افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے قانونی تحقیقات کا عمل شروع کر دیا ہے۔ سی ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ آپریشن کے دوران کے ٹو ایئرویز کا طیارہ اورماڑہ کے قریب سمندر میں گر کر تباہ جیسے واقعات کی طرح انتظامی امور میں بھی شفافیت لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

غیرقانونی قبضوں کے خلاف آپریشن

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سی ڈی اے اسلام آباد کے سیکٹر جی-6 میں موجود سرکاری فلیٹس سے غیرقانونی قابضین کو بے دخل کرنے کے لیے بھرپور آپریشن کر رہا ہے۔ اب تک کی کارروائیوں میں متعدد فلیٹس کو خالی کروایا جا چکا ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ سرکاری املاک پر ناجائز قبضہ کرنے والوں یا ان سے مالی فائدہ اٹھانے والے عناصر کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی اور قانون کے مطابق سخت کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ جیسا کہ حکومت کی جانب سے بلوچستان سمیت دیگر علاقوں میں بھی شفافیت پر زور دیا جا رہا ہے، جیسے وزیراعظم شہباز شریف کا بلوچستان میں امن و ترقی کے عزم کا اعادہ، اسی طرح دارالحکومت میں بھی سرکاری املاک کی بازیابی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں