مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

جرمن ارب پتی کا یورپی ڈیجیٹل خودمختاری کیلئے اربوں یورو کا اقدام

جرمن ارب پتی کا یورپی ڈیجیٹل خودمختاری کیلئے اربوں یورو کا اقدام (تصویر 1)

برلن (نمائندہ خصوصی)۔ جرمنی کے امیر ترین کاروباری شخصیت ڈیٹر شوارز نے یورپ کی ڈیجیٹل خودمختاری کو مضبوط بنانے کے لیے اربوں یورو کی سرمایہ کاری کا ایک وسیع منصوبہ شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبوں میں یورپی صلاحیت کو فروغ دینا اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر انحصار کو بتدریج کم کرنا ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پائیدار ترقی کیلئے عالمی اصلاحات ناگزیر ہیں اور ٹیکنالوجی کے میدان میں خود کفالت وقت کی اہم ضرورت سمجھی جا رہی ہے۔

شوارز گروپ اور STACKIT کا کردار

جرمن ارب پتی کا یورپی ڈیجیٹل خودمختاری کیلئے اربوں یورو کا اقدام (تصویر 2)

شوارز گروپ، جو عالمی ریٹیل برانڈز لِڈل اور کاؤفلینڈ کا مالک ہے، اپنے کلاؤڈ پلیٹ فارم STACKIT کو یورپی اداروں، سرکاری محکموں اور نجی کمپنیوں کے لیے ایک محفوظ متبادل کے طور پر تیزی سے فروغ دے رہا ہے۔ کمپنی کا واضح موقف ہے کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے حساس ڈیٹا کو یورپ کی حدود کے اندر ہی محفوظ رکھا جائے گا، جس سے یورپی جی ڈی پی آر قوانین کے مطابق ڈیٹا سکیورٹی کو مکمل طور پر یقینی بنایا جا سکے۔ یاد رہے کہ حال ہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیلی نار کے یوفون میں انضمام کی منظوری دے دی ہے، جو ٹیلی کام سیکٹر میں انضمام اور ڈیجیٹل ترقی کی ایک اہم مثال ہے۔

ہائلبرون کا جدید ٹیکنالوجی مرکز کے طور پر قیام

جرمن ارب پتی کا یورپی ڈیجیٹل خودمختاری کیلئے اربوں یورو کا اقدام (تصویر 3)

اس منصوبے کے ساتھ ہی ڈیٹر شوارز فاؤنڈیشن جرمنی کے شہر ہائلبرون کو تحقیق، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کا ایک بین الاقوامی مرکز بنانے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے بڑے پیمانے پر تحقیقی ادارے، جامعات، اسٹارٹ اپ انکیوبیٹرز اور جدید تعلیمی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ یورپ میں اختراع اور تکنیکی ترقی کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ تکنیکی شعبے میں یہ سرمایہ کاری نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت سول اعزازات کا اجلاس جیسے اہم حکومتی فیصلوں کی طرح دور رس اثرات مرتب کرے گی۔

یورپی ڈیجیٹل خودمختاری کی حکمت عملی

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ سرمایہ کاری یورپ کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جسے “ڈیجیٹل خودمختاری” کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس پالیسی کے تحت یورپی ممالک کلاؤڈ سروسز، مصنوعی ذہانت اور حساس ڈیٹا کے شعبوں میں بیرونی انحصار کم کر کے اپنی ٹیکنالوجی صلاحیت کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ گوگل، مائیکروسافٹ اور ایمیزون جیسے عالمی ٹیکنالوجی اداروں کا مقابلہ ایک طویل اور مشکل مرحلہ ہوگا، تاہم ڈیٹر شوارز کی سرمایہ کاری کو یورپ کے لیے ایک ایسے اسٹریٹجک اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو آنے والے برسوں میں براعظم کی ڈیجیٹل معیشت اور تکنیکی خودمختاری کو نئی سمت دے سکتا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں