مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

وزیر تجارت جام کمال خان کی سام سنگ کو برآمدات بڑھانے کی دعوت

وزیر تجارت جام کمال خان کی سام سنگ کو برآمدات بڑھانے کی دعوت

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے معروف ٹیک کمپنی سام سنگ کو پاکستان میں تیار ہونے والے موبائل فونز کی برآمدات بڑھانے اور پاکستان کو موبائل فون مینوفیکچرنگ، ریفربشمنٹ اور برآمدات کا علاقائی مرکز بنانے کی دعوت دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت برآمدات، ویلیو ایڈیشن اور صنعتی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ وزارت تجارت کے ترجمان کے مطابق بدھ کو وزارت تجارت میں سام سنگ پاکستان کے کنٹری ہیڈ نے وفد کے ہمراہ وفاقی وزیر تجارت سے ملاقات کی۔ وفاقی وزیر نے سام سنگ پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی مقامی مارکیٹ تک محدود رہنے کے بجائے یہاں تیار کیے جانے والے اسمارٹ فونز کو بالخصوص افریقی ممالک اور دیگر ابھرتی ہوئی منڈیوں میں برآمد کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی بڑھتی ہوئی مینوفیکچرنگ صلاحیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی سپلائی چین کا حصہ بننا چاہیے۔ یاد رہے کہ حکومت ملک میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے کوشاں ہے جیسا کہ حال ہی میں وزیراعظم آفس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید فیصلہ سازی نظام کا آغاز کیا گیا ہے۔

سام سنگ وفد کی تجاویز اور تحفظات

جام کمال خان نے پاکستان میں تصدیق شدہ موبائل فون ریفربشمنٹ مراکز قائم کرنے کی سام سنگ کی تجویز کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ منظم ریفربشمنٹ نظام نہ صرف مقامی صنعت کو مضبوط بنائے گا بلکہ معیاری اور وارنٹی کے حامل ریفربشڈ موبائل فونز کی برآمدات، روزگار کے نئے مواقع اور تکنیکی مہارت کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ سام سنگ کے وفد نے وفاقی وزیر کو پاکستان میں موبائل فون مینوفیکچرنگ کے شعبے کی پیش رفت اور مقامی اسمبلی میں کمپنی کی سرمایہ کاری سے آگاہ کیا۔ وفد نے نشاندہی کی کہ سیمی ناک ڈاؤن (ایس کے ڈی ) اور مکمل تیار شدہ (سی بی یو ) موبائل فونز پر محصولات کے فرق میں کمی اور ٹیکس ڈھانچے میں تبدیلی کے باعث مقامی طور پر تیار کیے جانے والے موبائل فونز کی مسابقت متاثر ہوئی ہے۔ وفد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مقامی صنعت کی حوصلہ افزائی کے لیے مناسب ٹیرف فرق برقرار رکھا جائے۔

حکومتی پالیسی اور مستقبل کا لائحہ عمل

وفد نے استعمال شدہ موبائل فونز کی تجارتی درآمدات پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مقامی صنعت متاثر ہو رہی ہے، حالانکہ پاکستان میں مقامی طلب پوری کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی موبائل فون صنعت نے گزشتہ چند برسوں میں نمایاں ترقی کی ہے اور آئندہ پالیسی کا محور حقیقی مینوفیکچرنگ، مقامی ویلیو ایڈیشن، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور برآمدات میں اضافہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اب مطلوبہ پیداواری صلاحیت موجود ہے، لہٰذا صنعتی پالیسیوں کو درآمدی استعمال شدہ مصنوعات پر انحصار کے بجائے سرمایہ کاری اور مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ جام کمال خان نے صنعت کی جانب سے ٹیکس سے متعلق تحفظات کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ان کا جائزہ وسیع تر مالیاتی فریم ورک کے تحت لیا جائے گا، تاہم کسی بھی مراعات کو سرمایہ کاری، مقامی پیداوار، برآمدات اور ویلیو ایڈیشن سے مشروط کیا جائے گا۔

مینوفیکچرنگ پالیسی میں نظرثانی

انہوں نے صنعت کو ہدایت کی کہ تصدیق شدہ ریفربشمنٹ، برآمدی امکانات، سرمایہ کاری کے وعدوں اور بین الاقوامی بہترین طریقہ کار سے متعلق تفصیلی تجاویز پیش کی جائیں تاکہ نظرثانی شدہ موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی کی تیاری میں انہیں شامل کیا جا سکے۔ اس ضمن میں حکومت کی حکومتی اہم فیصلوں اور سفارتی پیش رفت پر مبنی تفصیلی رپورٹ سے واضح ہے کہ معاشی استحکام اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ استعمال شدہ موبائل فونز کی تجارتی درآمدات سے متعلق کوئی بھی فیصلہ شواہد کی بنیاد پر، مرحلہ وار اور مقامی طور پر تصدیق شدہ ریفربشڈ متبادل کی دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے تاکہ صارفین کے مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ علاوہ ازیں، پاکستان کی جانب سے پاکستان کا عالمی بانڈز اور سکوک پروگرام کیلئے بین الاقوامی کنسورشیم بھی صنعتی ترقی کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ وفاقی وزیر تجارت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت صنعتی ترقی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور پاکستان عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں