مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

نسلہ ٹاور مسماری: وفاقی آئینی عدالت کا سپریم کورٹ احکامات واپس

نسلہ ٹاور مسماری: وفاقی آئینی عدالت کا سپریم کورٹ احکامات واپس

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی آئینی عدالت نے ملک کی عدالتی اور انتظامی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور دور رس فیصلہ سناتے ہوئے کراچی کے مشہور ‘نسلہ ٹاور’ کی مسماری کا سبب بننے والے سپریم کورٹ آف پاکستان کے 2018 اور 2019 کے احکامات کو واپس لے کر کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے اپنے تحریری فیصلے میں واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنے کا قانونی اختیار بنیادی طور پر صوبائی حکومت کا ہے، عدلیہ کا نہیں، اور اس فیصلے کو ملک میں اختیارات کی تقسیم اور عدالتی دائرہ اختیار کے حوالے سے ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

نسلہ ٹاور کیس: پس منظر اور عدالتی مداخلت

اس کیس کے پسِ منظر پر نظر ڈالی جائے تو کراچی کی اہم ترین شاہراہ فیصل اور شاہراہِ قائدین کے ملاپ پر واقع ‘نسلہ ٹاور’ ایک 15 منزلہ رہائشی اور تجارتی عمارت تھی، جس میں درجنوں خاندان آباد تھے اور کئی کاروباری دفاتر قائم تھے، مگر سال 2021 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی رپورٹوں پر یہ انکشاف کیا کہ اس عمارت کا کچھ حصہ سروس روڈ کی زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا ہے۔ اس وقت عمارت کے رہائشیوں نے شدید احتجاج کیا اور مؤقف اپنایا کہ انہوں نے تمام سرکاری محکموں سے منظور شدہ نقشے اور این او سی دیکھنے کے بعد اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی ان فلیٹس میں لگائی تھی، لیکن عدالت نے تمام اپیلیں مسترد کرتے ہوئے عمارت کو خالی کرانے اور گرانے کا حتمی حکم دیا، جس کے بعد فروری 2022 تک اس فلک بوس عمارت کو مکمل طور پر زمین بوس کر دیا گیا اور درجنوں خاندان سڑک پر آ گئے۔ تب یہ قانونی سوال شدت سے اٹھا تھا کہ سرکاری اداروں کی نااہلی یا بدعنوانی کی سزا قانون کے مطابق خرید و فروخت کرنے والے عام شہریوں کو کیوں دی گئی اور کیا عدالت کا کام خود انتظامی امور سنبھالنا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے سخت ریمارکس

وفاقی آئینی عدالت نے اب اپنے تازہ ترین فیصلے میں ماضی کے اس عدالتی رویے اور عدالتی ایکٹوزم پر سخت موقف اپنائے ہوئے ماتحت اور اعلیٰ عدالتوں کے لیے واضح گائیڈ لائنز جاری کی ہیں اور کہا ہے کہ عدالتوں کو صرف اپنے سامنے موجود اصل تنازع اور مقدمے تک ہی محدود رہنا چاہیے اور انتظامی یا غیر ضروری معاملات میں مداخلت سے مکمل گریز کرنا چاہیے کیونکہ سپریم کورٹ نے ماضی میں اس زیر سماعت مقدمے کے اصل دائرے سے آگے بڑھ کر وسیع اور غیر معمولی احکامات جاری کیے جو کہ عدلیہ کا دائرہ اختیار نہیں تھا۔ تحریری فیصلے میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ محض سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کچی رپورٹس کو بنیاد بنا کر، اور تمام ضروری قانونی تقاضے پورے کیے بغیر کسی بھی عمارت یا رہائشی منصوبے کو گرانے کے احکامات جاری نہیں کیے جا سکتے۔ جس طرح ماضی میں پنجاب میں مصنوعی ذہانت کے فروغ کیلئے مستقل سیکرٹری تعینات کر دیا گیا ہے، اسی طرح دیگر انتظامی امور میں بھی تکنیکی مہارتوں کو فوقیت دی جانی چاہیے۔

شہریوں کے بنیادی حقوق اور قانونی دفاع

بینچ میں شامل معزز جج، جسٹس سید ارشد حسین شاہ نے فیصلے میں اپنا ایک تفصیلی اضافی نوٹ بھی تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے عوامی مفادات اور ریاستی ذمہ داریوں کا احاطہ کرتے ہوئے لکھا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور عوامی سہولیات کا تحفظ کرنا ریاست کی اولین اور بنیادی ذمہ داری ہے اور عوام کے استعمال میں آنے والے پارکس، کھیل کے میدانوں، گرین بیلٹس اور فٹ پاتھوں کو ہر صورت غیر قانونی قبضہ مافیا سے بچایا جائے اور ان کا تحفظ یقینی بنایا جائے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ تمام ذمہ داریاں انتظامیہ اور صوبائی حکومتوں کو قانون کے دائرے میں رہ کر پوری کرنی چاہئیں، نہ کہ عدالتیں انتظامی امور خود سنبھالنا شروع کر دیں۔ جس طرح اسلام آباد کے سرکاری فلیٹس کرائے پر دینے پر افسران کیخلاف مقدمہ درج ہوا، اسی طرح قوانین کا نفاذ اداروں کا کام ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، وفاقی آئینی عدالت کے اس فیصلے کے بعد اب بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز اور صوبائی حکومتیں عدالتی دباؤ کے بغیر، اپنے مروجہ قوانین کے تحت کارروائی کرنے کی پابند ہوں گی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس فیصلے نے نسلہ ٹاور جیسے کیسز میں متاثر ہونے والے شہریوں اور دیگر بلڈرز کے لیے قانونی دفاع اور معاوضے کے حصول کا ایک نیا اور مضبوط راستہ کھول دیا ہے۔ اس صورتحال کو مبشر حسن کو ڈائریکٹر جنرل ڈیجیٹل کمیونیکیشن مقرر کر دیا گیا جیسی انتظامی تبدیلیوں کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے جہاں پالیسی سازی کو مزید شفاف بنایا جا رہا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں