پنجاب میں مصنوعی ذہانت کے فروغ کیلئے مستقل سیکرٹری تعینات کر دیا گیا

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ حکومتِ پنجاب نے صوبائی انتظامی ڈھانچے میں مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے سیکرٹری آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا مستقل عہدہ قائم کر دیا ہے۔ محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پی اے ایس گریڈ 19 کے افسر محمد احمد کو، جو اس سے قبل پنجاب ریسورس مینجمنٹ اینڈ پالیسی یونٹ (PRMPU) کے منیجنگ ڈائریکٹر کے فرائض انجام دے رہے تھے، فوری طور پر تبادلہ کرکے سیکرٹری آرٹیفیشل انٹیلی جنس، ایس اینڈ جی اے ڈی تعینات کر دیا گیا ہے۔
مستقل تعیناتی اور اضافی ذمہ داریاں
نوٹیفکیشن کے مطابق محمد احمد تاحکمِ ثانی اپنے نئے عہدے کے ساتھ ساتھ پنجاب ریسورس مینجمنٹ اینڈ پالیسی یونٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر کا اضافی چارج بھی سنبھالیں گے۔ حکومتِ پنجاب کا یہ فیصلہ انتظامی امور میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار کو مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یاد رہے کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر حکومتی مبشر حسن کو ڈائریکٹر جنرل ڈیجیٹل کمیونیکیشن مقرر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد صوبائی سطح پر بھی ایسی تعیناتیوں سے نظم و نسق میں بہتری متوقع ہے۔
جدید ٹیکنالوجی اور گورننس کا مستقبل
صوبائی حکومت کے اس اقدام کو گورننس میں جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور مصنوعی ذہانت پر مبنی پالیسی سازی کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ اس سے عوامی خدمات کی فراہمی میں جدت، شفافیت اور کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔ اس سے قبل رئیسہ عادل پرنسپل انفارمیشن آفیسر تعینات، مبشر حسن تبدیل کیے گئے تھے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت اہم انتظامی عہدوں پر تجربہ کار افسران کو ذمہ داریاں سونپ رہی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پنجاب حکومت تعلیم، انتظامی امور اور ڈیجیٹل گورننس میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو وسعت دینے کے لیے متعدد اقدامات کر چکی ہے، جس میں اسلام آباد کے سرکاری فلیٹس کرائے پر دینے پر افسران کیخلاف مقدمہ جیسے کیسز سے نمٹنے کے لیے ڈیجیٹل نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنانا شامل ہے۔