جاپان میں پاکستانی سفیر عبد الحمید کی وزیر انصاف سے اہم ملاقات

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ جاپان میں پاکستان کے سفیر، جناب عبد الحمید، نے جاپان کے وزیرِ انصاف، جناب ہیروشی ہیراگوچی سے ایک اہم ملاقات کی ہے، جس میں پاکستان اور جاپان کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات کے دوران جاپان میں مقیم پاکستانی اعلیٰ مہارت یافتہ پیشہ ور افراد اور ہنرمند کارکنوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پر خصوصی بات چیت کی گئی۔
ادارہ جاتی تعاون اور ہنرمند افرادی قوت پر تبادلہ خیال
ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان مہارتوں کی ترقی، افرادی قوت کی منظم نقل و حرکت اور استعدادِ کار میں اضافے کے لیے ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں کا جائزہ لیا گیا۔ سفیر عبد الحمید اور وزیر انصاف ہیروشی ہیراگوچی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی سطح پر روابط (People-to-People Connectivity) پاکستان اور جاپان کے دیرینہ تعلقات کا ایک بنیادی ستون ہیں، اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ایسے عملی اقدامات کو فروغ دیا جائے گا جس سے دونوں ممالک کے عوام کو براہِ راست فوائد حاصل ہوں۔ جیسے کہ حال ہی میں پاکستان اور کینیڈا کے درمیان کینولا درآمدی پروٹوکول پر دستخط جیسے اقدامات سے دوطرفہ تجارت میں وسعت آتی ہے، اسی طرح جاپان کے ساتھ بھی تکنیکی تعاون کا فروغ اہم ہے۔
مفاہمتی یادداشت کی اہمیت
اس موقع پر دونوں فریقوں نے “مہارتوں کی ترقی کے لیے روزگار سے متعلق نئے مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Cooperation on Employment for Skill Development)” کی تکمیل کے لیے جاری کوششوں کا خیرمقدم کیا۔ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ یہ مفاہمتی یادداشت نہ صرف ہنرمند افرادی قوت کی نقل و حرکت کو آسان بنائے گی بلکہ دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے ایک مضبوط ادارہ جاتی فریم ورک بھی فراہم کرے گی۔ جس طرح جنید انوار چوہدری کی بیجنگ میں چینی سرمایہ کاروں کو میری ٹائم شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت ایک اہم پیشرفت ہے، اسی طرح جاپان کے ساتھ افرادی قوت کا یہ معاہدہ پاکستان کی معیشت کے لیے دوررس نتائج کا حامل ہوگا۔
دوستانہ تعلقات کا تسلسل
ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس بات کی توثیق کی کہ پاکستان اور جاپان باہمی مفاد کے مختلف شعبوں میں اپنے تعاون کو گہرا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ ملاقات نہ صرف دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں بہتری کی عکاس ہے بلکہ یہ ان کوششوں کا حصہ ہے جو وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات کے بعد ملک میں معاشی استحکام اور بین الاقوامی روابط کو فروغ دینے کے لیے کی جا رہی ہیں۔