مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

حکومت اور نجی شعبہ مشترکہ حکمت عملی سے تجارتی خسارہ کم کریں

تصویر

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف) کے بانی میاں شفقت علی، پیٹرن انچیف انجینئر سہیل لاشاری، چیئرمین سید محمود غزنوی، سینئر وائس چیئرمین خواجہ کاشف الٰہی، وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن اور چیئرمین ایسوسی ایٹ کلاس فرخ احسان خان نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں ملکی معیشت کی ترقی کے لیے برآمدات میں اضافے کو ناگزیر قرار دیا ہے۔

معاشی استحکام کے لیے برآمدات میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت

رہنماؤں نے کہا کہ معیشت کی ترقی کے لیے درآمدات اور برآمدات میں توازن انتہائی ضروری ہے، تاہم حالیہ معاشی رجحانات اس امر کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ درآمدی دباؤ اب بھی برقرار ہے۔ اس ضمن میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کا 6 سے 8 اگست سعودی عرب کا سرکاری دورہ اور دیگر تجارتی اقدامات کو مزید وسعت دی جانی چاہیے۔

صنعتی چیلنجز اور حکومتی ذمہ داریاں

پیاف کے رہنماؤں نے نشاندہی کی کہ توانائی کی بلند لاگت پیداواری شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خام مال اور صنعتی مشینری کی دستیابی کو آسان بنایا جائے تاکہ پیداواری عمل متاثر نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس افسران کی غیر ملکی تربیت کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے، اسی طرز پر صنعتی شعبے میں بھی جدید مہارتوں اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے عملی اقدامات ہونے چاہئیں۔ رہنماؤں نے تجویز دی کہ برآمد کنندگان کو بروقت ریفنڈز اور مالی سہولیات فراہم کی جائیں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے خصوصی مراعات متعارف کرائی جائیں۔

نئی منڈیوں کی تلاش اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

بیان میں کہا گیا ہے کہ زرعی اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پیداواری لاگت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ پیاف کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ بندرگاہوں اور کسٹمز کے نظام کو مزید موثر اور تیز بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسیوں میں تسلسل سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرے گا، جس کے لیے حکومت اور نجی شعبہ مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے تجارتی خسارہ کم کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار کی مدینہ منورہ میں روضۂ رسول ﷺ پر حاضری کے بعد کی معاشی پالیسیوں میں تسلسل ملکی معیشت کو پائیدار استحکام کی طرف لے جائے گا۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں