مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے میڈیا کی پیشہ ورانہ استعداد کار ورکشاپ

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے میڈیا کی پیشہ ورانہ استعداد کار ورکشاپ (تصویر 1)

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) نے میسرو کے تعاون سے میڈیا کی پیشہ ورانہ استعداد کار بڑھانے کے لیے ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹنگ کو مضبوط بنانا اور موسمیاتی چیلنجز سے متعلق عوامی آگاہی میں اضافہ کرنا تھا۔

موسمیاتی تبدیلی اور میڈیا کا کردار

’’موسمیاتی تبدیلی سے متعلق صحافت کو مضبوط بنانا: موسمیاتی موافقت، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات (جی ایل او ایف)، سیلاب، ابتدائی انتباہی نظام اور آفات کے خطرات میں کمی کے حوالے سے میڈیا کی استعداد کار کو بہتر بنانا‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ورکشاپ میں مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں، رپورٹرز، اینکر پرسنز اور دیگر میڈیا پروفیشنلز نے شرکت کی۔ نیشنل پریس کلب جیسے پلیٹ فارمز پر ہونے والی ان سرگرمیوں سے صحافیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے میں مدد ملتی ہے۔

پرنسپل انفارمیشن آفیسر کا خطاب

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے میڈیا کی پیشہ ورانہ استعداد کار ورکشاپ (تصویر 2)

شرکا سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل انفارمیشن آفیسر رئیسہ عادل نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متعلق عوامی آگاہی بڑھانے اور ماحولیاتی امور پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے فروغ میں میڈیا کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی خطرات سے متعلق موثر آگاہی اور قومی سطح پر لچک پیدا کرنے اور آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کو مضبوط بنانے کے لیے ذمہ دارانہ، شواہد پر مبنی صحافت ناگزیر ہے۔ پرنسپل انفارمیشن آفیسر نے مزید کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے اس لیے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات (گلاف)، اچانک آنے والے سیلاب، ہیٹ ویوز اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی دیگر آفات سے متعلق بروقت، درست اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کی اشد ضرورت ہے۔

ماہرین کی رہنمائی اور ٹیکنالوجی کا استعمال

اس موقع پر ماہرین نے موسمیاتی موافقت، سیلاب کے خطرات، ابتدائی انتباہی نظام اور آفات کے خطرات میں کمی کی حکمت عملیوں پر پریزنٹیشنز دیں۔ انہوں نے ماحولیاتی ہنگامی صورتحال کی رپورٹنگ کے بہترین طریقوں پر بھی روشنی ڈالی اور صحافیوں کو سائنسی معلومات درست اور موثر انداز میں عوام تک پہنچانے کے لیے عملی رہنمائی فراہم کی۔ شرکا نے صحافیوں کے ساتھ موسمیاتی امور کی رپورٹنگ کے دوران میڈیا کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا اور صحافیوں اور تکنیکی ماہرین کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور کیا۔

اسناد کی تقسیم

ورکشاپ میں مختلف میڈیا اداروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں، اینکر پرسنز اور ریسورس پرسنز نے شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر پرنسپل انفارمیشن آفیسر رئیسہ عادل، انفارمیشن سروس اکیڈمی (آئی ایس اے) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل ثمینہ فرزین اور ہوم پبلسٹی ونگ کی ڈائریکٹر جنرل عائشہ تصدق نے تربیتی ورکشاپ کامیابی سے مکمل کرنے والے شرکا میں اسناد تقسیم کیں۔ یہ اقدام وفاقی سطح پر میڈیا کے شعبے میں بہتری لانے کے حکومتی عزم کا عکاس ہے۔ اسی طرح دیگر شعبوں میں بھی مشترکہ تعاون کے ذریعے بہتری لائی جا رہی ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں