وزیراعظم شہباز شریف قطر کا دورہ مکمل کر کے وطن پہنچ گئے

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف قطر کا ایک روزہ دورہ مکمل کرکے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، وزیراعظم پیر کے روز ایک روزہ دورے پر قطر روانہ ہوئے تھے، جہاں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر قطر روانہ ہو گئے تھے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد ریاست قطر کے امیر کے والد شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال پر حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے قطر کی قیادت اور عوام سے بالمشافہ تعزیت اور گہری ہمدردی کا اظہار کرنا تھا۔
دورے کی تفصیلات اور وفد کی شرکت
اس اہم دورے کے دوران وزیراعظم کے ہمراہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شامل تھے۔ یہ دورہ پاکستان اور قطر کے درمیان قائم گہرے برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
مرحوم کو خراجِ عقیدت اور یکجہتی کا اظہار
وزیراعظم شہباز شریف نے مرحوم شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کی پاکستان کے لیے گرمجوشی، شفقت اور دیرینہ محبت کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے پاکستان کے متعدد یادگار دوروں کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے انہیں قدر و منزلت سے یاد کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس گہرے صدمے کی گھڑی میں قطر کی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور قطر کے شاہی خاندان سمیت برادر عوام کو اس ناقابلِ تلافی صدمے کو صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا کرے۔
قطری قیادت کا ردعمل
امیرِ قطر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف، نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور پاکستانی وفد کا ذاتی طور پر دوحہ آ کر تعزیت کرنے پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔ امیرِ قطر نے پاکستان کے اس اقدام کو دونوں ممالک اور عوام کے مابین موجود دیرینہ برادرانہ تعلقات اور باہمی احترام کا مظہر قرار دیا۔ واضح رہے کہ پاکستان اور دیگر برادر اسلامی ممالک کے مابین تعلقات کے فروغ میں اسلام آباد میں او آئی سی وزارتی کانفرنس خواتین، پاکستان سربراہ منتخب ہونے جیسے اقدامات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ اسلامی دنیا میں جامع ترقی کیلئے خواتین کا بااختیار ہونا ضروری ہے، اسی طرح کے باہمی دورے دو طرفہ سفارتی تعلقات کو مزید مستحکم بناتے ہیں۔