مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

راولپنڈی چیمبر کا جرمنی کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے پر زور

راولپنڈی چیمبر کا جرمنی کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے پر زور (تصویر 1)

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (RCCI) نے جرمنی کے ساتھ اقتصادی روابط کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے اہم تجاویز پیش کر دی ہیں۔ پاکستان میں تعینات جرمن سفیر اِنَا لیپل کے دورہ RCCI کے موقع پر صدر آر سی سی آئی عثمان شوکت نے پاکستان میں ‘جرمن ٹریڈ ڈیسک’ کے قیام کا مطالبہ کیا تاکہ پاکستانی کمپنیوں کو جرمن منڈیوں تک رسائی میں سہولت مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی شعبے سمیت متعدد دیگر اہم شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کے درمیان نجی شعبے کی سطح پر روابط بڑھانے کے لیے ‘پاکستان جرمنی جوائنٹ چیمبر آف کامرس’ کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

معاشی تعاون کے وسیع مواقع

راولپنڈی چیمبر کا جرمنی کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے پر زور (تصویر 2)

صدر آر سی سی آئی عثمان شوکت نے اس بات پر زور دیا کہ زراعت و ایگری ٹیک، فن ٹیک، اسمارٹ و توانائی مؤثر تعمیرات، فارماسیوٹیکلز، قیمتی پتھر و معدنیات، کان کنی، ویلیو ایڈیشن اور ایس ایم ایز کے شعبوں میں پاکستان اور جرمنی کے درمیان تعاون کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جرمنی یورپی یونین میں پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 2.5 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان کی جرمنی کو برآمدات تقریباً 1.7 ارب ڈالر جبکہ درآمدات تقریباً 880 ملین ڈالر ہیں۔ انہوں نے جی ایس پی پلس فریم ورک کے لیے جرمنی کی مسلسل حمایت کو پاکستان کی برآمدات کے لیے اہم قرار دیا۔

جرمن سفیر کا عزم

کاروباری برادری کے ساتھ انٹرایکٹو سیشن سے خطاب کرتے ہوئے جرمن سفیر اِنَا لیپل نے کہا کہ جرمنی پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی، صحت و سماجی تحفظ، نجی شعبے کی ترقی اور فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے شعبوں کو ترجیحی قرار دیا۔ جرمن سفیر نے پاکستانی ایس ایم ایز کو عالمی منڈیوں سے منسلک کرنے کے لیے بین الاقوامی تجارتی نمائشوں میں شرکت اور ماحول دوست پیداواری طریقوں کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستانی کاروباری شعبے کی مشکلات کے باوجود ثابت قدمی کی تعریف کی اور کہا کہ جی ایس پی پلس سے متعلق امور پر مسلسل مشاورت اور تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس موقع پر شرکاء نے ٹیکنالوجی کی منتقلی اور باہمی سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق کیا تاکہ دیرپا معاشی ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں