صدی کی مہنگی ترین طلاق: جنوبی کوریا کی عدالت نے ایس کے گروپ کے چیئرمین کو سابقہ اہلیہ کو 184 ارب روپے ادا کرنے کا حکم دے دیا

سیول (نمائندہ خصوصی)۔ جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے ملک کے دوسرے بڑے کاروباری گروپ ایس کے گروپ (SK Group) کے چیئرمین چے تے وون (Chey Tae-won) کو اپنی سابقہ اہلیہ روہ سو-یونگ (Roh Soh-yeong) کو 944 ارب وون (تقریباً 644 ملین امریکی ڈالر یا 184 ارب پاکستانی روپے) ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کو جنوبی کوریا کی تاریخ کی مہنگی ترین طلاقی تصفیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
قانونی پس منظر اور عدالتی فیصلہ
رپورٹس کے مطابق یہ رقم 2024 میں سنائے گئے 1.38 کھرب وون کے فیصلے سے کم ہے۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ سال اس فیصلے میں بعض قانونی اور حسابی نکات کی نشاندہی کرتے ہوئے مقدمہ دوبارہ سماعت کے لیے واپس بھیج دیا تھا، جس کے بعد سیول ہائی کورٹ نے ازسرِ نو سماعت کرتے ہوئے رقم کم کرکے 944 ارب وون مقرر کر دی۔ یہ فیصلہ اب بھی مزید قانونی کارروائی اور حتمی منظوری سے مشروط ہو سکتا ہے۔
شادی کا اختتام اور پس منظر
چے تے وون اور روہ سو-یونگ کی شادی 1988 میں ہوئی تھی۔ روہ سو-یونگ جنوبی کوریا کے سابق صدر روہ تائے وو (Roh Tae-woo) کی بیٹی ہیں۔ دونوں کی ازدواجی زندگی اس وقت بحران کا شکار ہوئی جب 2015 میں چے تے وون نے عوامی طور پر اعتراف کیا کہ ان کے ایک دوسری خاتون کے ساتھ تعلقات ہیں اور اس تعلق سے ان کی ایک بیٹی بھی ہے۔ اس انکشاف کے بعد روہ سو-یونگ نے طلاق اور مشترکہ اثاثوں میں اپنے حصے کے حصول کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ایس کے گروپ کی کاروباری حیثیت کی بات کی جائے تو یہ جنوبی کوریا کے سب سے بڑے صنعتی و کاروباری اداروں میں شمار ہوتا ہے، جس کی سرگرمیاں توانائی، ٹیلی کمیونیکیشن، کیمیکلز اور سیمی کنڈکٹرز سمیت متعدد شعبوں پر محیط ہیں۔ گروپ کی ذیلی کمپنی SK Hynix دنیا کی صفِ اول کی میموری چپ ساز کمپنیوں میں شامل ہے اور مصنوعی ذہانت (AI) کے لیے استعمال ہونے والی ہائی بینڈوڈتھ میموری (HBM) چپس این ویڈیا (NVIDIA) سمیت عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو فراہم کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف جنوبی کوریا کی تاریخ کے سب سے نمایاں طلاقی مقدمات میں سے ایک ہے بلکہ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے چیمبر وفد کی ملاقات جیسے کاروباری معاملات کی طرح، اس کے خاندانی کاروبار، کارپوریٹ شیئرز کی تقسیم اور وراثتی تنازعات سے متعلق مستقبل کے مقدمات پر بھی دور رس اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد مارکیٹ تجزیہ کار اس پیشرفت کو یوفون اور ٹیلی نار کے انضمام پر e& برانڈ نام معطل ہونے جیسے بڑے کارپوریٹ فیصلوں کی طرح اہم قرار دے رہے ہیں۔