مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

اقوام متحدہ کی چیف آف اسٹاف کی سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے ملاقات

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ اقوام متحدہ کی خواتین کی تنظیم (UN Women) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے چیف آف اسٹاف، جناب محمد نصیری نے آج وفاقی وزیر قانون، انصاف و انسانی حقوق، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے وزارتِ انسانی حقوق میں ملاقات کی۔ اس اہم ملاقات میں حکومتِ پاکستان اور UN Women کے درمیان خواتین کے حقوق، صنفی مساوات، خواتین و بچیوں کے بااختیار بنانے اور جامع طرزِ حکمرانی کے فروغ کے لیے جاری شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یاد رہے کہ حکومتِ پاکستان پہلے ہی وزیر اعظم شہباز شریف کی قومی ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کے تحت مختلف شعبوں میں اصلاحات کے لیے کوشاں ہے۔

UN Women کے وفد میں پاکستان میں UN Women کے کنٹری نمائندے جناب جمشید ایم۔ قاضی اور ڈپٹی کنٹری نمائندہ محترمہ فہمیدہ اقبال خان بھی شامل تھیں۔ وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے پاکستان کے ساتھ UN Women کے مسلسل تعاون کو سراہا اور خواتین کے حقوق کے تحفظ، صنفی مساوات کے فروغ، انصاف تک رسائی بہتر بنانے اور مؤثر پالیسی سازی کے لیے وزارتِ انسانی حقوق اور UN Women کے درمیان قریبی اشتراک پر روشنی ڈالی۔

خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے قومی پالیسی

ملاقات کے دوران خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے سے متعلق قومی پالیسی (National Policy on Ending Violence Against Women and Girls – EVAWG) پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جسے UN Women کی تکنیکی معاونت سے صوبائی حکومتوں، سول سوسائٹی اور ماہرینِ تعلیم سے وسیع مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے اس جامع قومی پالیسی کو جلد حتمی شکل دینے اور اس پر مؤثر عمل درآمد کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔

علاقائی تعاون اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال

فریقین نے آئندہ منعقد ہونے والی سارک کانفرنس پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور اسے جنوبی ایشیا میں صنفی مساوات، خواتین کے حقوق اور جامع ترقی کے فروغ کے لیے علاقائی تعاون کا ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔ اس حوالے سے الیکشن کمیشن کی سیاسی جماعتوں کو مالی گوشوارے جمع کرانے کی ہدایت جیسے اقدامات کی طرح شفافیت اور جوابدہی کے پہلوؤں پر بھی زور دیا گیا۔

ملاقات میں شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے فروغ کے لیے پاکستان کے جینڈر ڈیٹا سسٹم کو مزید مضبوط بنانے، بین الاقوامی ذمہ داریوں خصوصاً CEDAW اور بیجنگ ڈیکلریشن اینڈ پلیٹ فارم فار ایکشن کے تحت رپورٹنگ کو مؤثر بنانے، نیز خواتین کے معاشی بااختیار بنانے، ڈیجیٹل شمولیت اور ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت (Responsible AI) کے فروغ پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس ضمن میں خواتین اور بچیوں کے خلاف ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے تشدد سے نمٹنے کے لیے مشترکہ تعاون کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

پاکستان کا قائدانہ کردار

ملاقات کے دوران جناب محمد نصیری نے UN Women کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی جانب سے وفاقی وزیر کو تعریفی خط پیش کیا، جس میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کے کامیاب انعقاد، آئندہ دو برس کے لیے کانفرنس کی چیئرمین شپ سنبھالنے، اور خواتین کے بااختیار بنانے اور صنفی مساوات کے فروغ میں پاکستان کے قائدانہ کردار کو سراہا گیا۔ اسحاق ڈار اور کینیڈا کی وزیر خارجہ کی اسلام آباد میں ملاقات کی طرح اس نشست نے بھی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی سفارتی اہمیت کو اجاگر کیا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے خواتین اور بچیوں کے حقوق کے تحفظ، صنفی مساوات کے فروغ اور جامع و پائیدار ترقی کے لیے UN Women کے ساتھ اشتراک کو مزید مضبوط بنانے کے حکومتی عزم کا اظہار کیا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے خواتین کے بااختیار بنانے اور پاکستان میں صنفی مساوات کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں