مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

حکومت زیتون کی کاشت سے ملکی درآمدی بل میں کمی لائے گی

حکومت زیتون کی کاشت سے ملکی درآمدی بل میں کمی لائے گی

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے زرعی انقلاب کیلئے عملی اقدامات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کسانوں کو ہرممکن سہولیات فراہم کرے گی، زیتون کی کاشت سے ملک کو خوردنی تیل کی پیداوار میں خودکفیل کرکے قیمتی زرمبادلہ بچا سکتے ہیں، پاکستان کے 100 زرعی گریجویٹس کو زیتون کی کاشت، پروسیسنگ، مارکیٹنگ اور ویلیو چین کے مختلف شعبوں میں جدید تربیت حاصل کرنے کیلئے اٹلی بھجوائیں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو یہاں ’’پاکستان نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی‘‘ کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزراء، غیر ملکی سفارت کاروں کے علاوہ زیتون کی کاشت اور اس شعبے سے وابستہ کسانوں، ماہرین اور محققین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

زرعی ترقی اور کسانوں کا عزم

وزیر اعظم نے کہا کہ خوشی ہے کہ وہ پاکستان کے زیتون کے مایہ ناز کسانوں، محققین اور برآمدکنندگان سے مخاطب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں اور ماہرین کی شب و روز محنت سے زیتون کے شعبے میں شاندار مثال قائم ہوئی ہے۔ انہوں نے لورالائی سے عبدالحبار، مردان سے قرة العین اور چکوال سے یعقوب اظہار کی محنت کو خاص طور پر قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ زیتون کی کاشت کے فروغ کے لئے صوبائی حکومتوں کے تعاون پر مشکور ہیں۔ وزیراعظم نے زیتون کی کاشت کو فروغ دینے والے کسانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں نے ثابت کیا کہ عزم، محنت اور جدید سوچ کے ذریعے بڑے نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی انقلاب کے لئے کسانوں کو ہرممکن معاونت فراہم کریں گے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر کسانوں کو سہولتیں فراہم کریں گی، ملک میں زرعی انقلاب کیلئے عملی اقدامات کرنا ناگزیر ہے۔

درآمدی بل میں کمی اور اٹلی کا تعاون

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ہر سال تقریباً 4 ارب ڈالر کا خوردنی تیل درآمد کرتا ہے، درآمدی بل میں سالانہ صرف 400 ملین ڈالر کی بھی کمی لائی جائے تو یہ بڑی خدمت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ درآمدی بل میں کمی کے لئے انہوں نے پام آئل اور سورج مکھی کی کاشت کو فروغ دینے کی بھی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان تجارتی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، زراعت، ٹریکٹر مینوفیکچرنگ اور دیگر شعبوں میں دونوں ممالک کا تعاون قابل ذکر ہے۔ پاکستان اور اٹلی زیتون کی پیداوار، ویلیو ایڈیشن، جدید پروسیسنگ اور برآمدات کے شعبے میں تعاون مزید بڑھائیں گے۔ وزیراعظم نے 100 نوجوان زرعی گریجویٹس کو اٹلی بھیجنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوان زیتون کی کاشت، پروسیسنگ، مارکیٹنگ اور ویلیو چین کے مختلف شعبوں میں جدید تربیت حاصل کریں گے۔

تکنیکی ترقی اور مستقبل کے اہداف

اس سے قبل وزیراعظم نے زیتون کے کاشتکاروں، اس شعبے کے محقیقین اور ماہرین میں شیلڈز تقسیم کیں۔ وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو اعلیٰ معیار اور بیماریوں سے پاک بیج فراہم کریں گے، ٹیکنالوجی کے استعمال سے فصلوں کے ممکنہ نقصانات کی بروقت نشاندہی اور تدارک ممکن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ زیتون صرف ایک فصل نہیں اس میں کاروباری مواقع پیدا کرنے والی مکمل ویلیو چین ہے۔ بی آئی ایس پی کا ڈیجیٹل ادائیگی نظام کی طرز پر زراعت میں بھی ڈیجیٹلائزیشن لائیں گے۔ سیکرٹری قومی غذائی تحفظ و تحقیق عامر علی احمد نے کہا کہ پاکستان جلد جنوبی، مشرقی اور وسطی ایشیا کی منڈیوں میں زیتون کا تیل برآمد کرے گا۔ پاکستان کی بنگلہ دیش کو قانونی اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن میں تعاون کی پیشکش کے بعد زیتون کے شعبے میں بھی بین الاقوامی تعاون بڑھ رہا ہے۔ پاکستان میں اطالوی سفیر اوگو چیار تلانی نے کہا کہ 2016ء میں پاکستان میں زیتون کے درختوں کی تعداد 5 لاکھ تھی، آج پاکستان بھر میں 70 لاکھ سے زیادہ زیتون کے پودے کاشت کئے جا رہے ہیں۔ کوآرڈینیٹر زراعت و غذائی تحفظ احمد عمیر نے کسانوں کی محنت کو سراہا۔ لورالائی کے عبدالحبار، مردان کی قرة العین اور چکوال کے یعقوب اظہار نے اپنے تجربات بیان کیے۔ یاد رہے کہ حکومت زراعت کے شعبے میں جدت لانے کے لئے پرعزم ہے، جیسا کہ کابینہ کمیٹی کی جانب سے ڈسکوز کے ری سٹرکچرنگ پلان کی منظوری بھی ملکی معیشت کی بہتری کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں