مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

وزیر داخلہ محسن نقوی اور لارڈ ضمیر چوہدری کی ملاقات

وزیر داخلہ محسن نقوی اور لارڈ ضمیر چوہدری کی ملاقات

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے رکن لارڈ ضمیر چوہدری نے ملاقات کی ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس اہم ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کا کردار

اس موقع پر برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے رکن لارڈ ضمیر چوہدری نے خطے میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی مسلسل کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور ریاستی اداروں کی جانب سے علاقائی استحکام کے لیے کی جانے والی کاوشیں انتہائی قابلِ تحسین ہیں۔ لارڈ ضمیر چوہدری نے مزید کہا کہ حکومتِ پاکستان کی مثبت پالیسیوں کے نتیجے میں ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ رہے ہیں اور بین الاقوامی برادری اسے مثبت نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی مختلف شعبوں میں حکومت کی جانب سے اصلاحات کی گئی ہیں، جیسا کہ سعودی عرب میں جنرل ایجوکیشن قانون کی منظوری، تعلیمی اصلاحات کا آغاز جیسے اقدامات سے خطے کی اقتصادی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

سرمایہ کاروں کو سہولیات کی فراہمی

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پاکستان اپنی مشترکہ اور مخلصانہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی ان کاوشوں کے ثمرات جلد برآمد ہوں گے۔ محسن نقوی نے مزید کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع اور منافع بخش مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان یہاں سرمایہ کاری کرنے والے تمام افراد کا خیرمقدم کرے گی اور انہیں ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ حکومت کے معاشی ایجنڈے میں ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی سرفہرست ہے، جس کی ایک مثال وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر کا افتتاح ہے۔

معاشی استحکام اور مستقبل کے اہداف

ملاقات میں پاکستان کی معاشی پالیسیوں کو عالمی معیارات کے مطابق بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس ضمن میں شفافیت اور سہولت کاری کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت تعلیمی و تحقیقی میدان میں بھی جدید رجحانات کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس میں پاکستان کی تمام جامعات میں مصنوعی ذہانت کا کورس لازمی قرار دیا جانا ایک اہم قدم ہے۔ لارڈ ضمیر چوہدری نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا اور باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں