مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

امریکہ میں ایئر ٹیکسیوں اور سپر سونک مسافر طیاروں کا آغاز

امریکہ میں ایئر ٹیکسیوں اور سپر سونک مسافر طیاروں کا آغاز (تصویر 1)

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)۔ امریکہ جدید فضائی نقل و حمل کے ایک نئے اور انقلابی دور میں داخل ہونے کی بھرپور تیاری کر رہا ہے۔ وفاقی فضائی انتظامیہ (FAA) نے ایئر ٹیکسیوں، سپر سونک مسافر طیاروں، ڈرونز اور تجارتی خلائی پروازوں کو جلد از جلد عوامی استعمال کے لیے متعارف کرانے کی غرض سے متعدد اہم اقدامات کا آغاز کر دیا ہے، جس سے عالمی سفری رجحانات میں حکومتی اہم فیصلوں اور سفارتی پیش رفت پر مبنی تفصیلی رپورٹ کی طرح ایک نئی سمت کا تعین ہوگا۔

ایئر ٹیکسیوں کا پائلٹ پروگرام

ایف اے اے کے مطابق الیکٹرک ورٹیکل ٹیک آف اینڈ لینڈنگ (eVTOL) ایئر ٹیکسیوں کی جانچ کے لیے 26 امریکی ریاستوں میں آٹھ شراکت دار اداروں کے تعاون سے ایک وسیع پائلٹ پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے حفاظتی معیار، سرٹیفکیشن کے سخت تقاضوں اور قومی فضائی نظام میں ان جدید طیاروں کے محفوظ انضمام کے لیے اہم ڈیٹا اور معلومات جمع کی جائیں گی۔ یہ پیش رفت اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ پاکستان کی طرح دنیا بھر میں وزیراعظم آفس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید فیصلہ سازی نظام کا آغاز جیسے جدید تکنیکی اقدامات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

امریکہ میں ایئر ٹیکسیوں اور سپر سونک مسافر طیاروں کا آغاز (تصویر 2)

سپر سونک طیاروں کی واپسی کے لیے قواعد میں نرمی

دوسری جانب سپر سونک مسافر طیاروں کی واپسی کی راہ بھی ہموار کی جا رہی ہے۔ ایف اے اے نے زمینی علاقوں کے اوپر آواز کی رفتار سے زیادہ تیز پروازوں سے متعلق کئی دہائیوں پرانے قواعد و ضوابط پر نظرثانی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ مجوزہ قوانین کے تحت شور اور پرواز کے نئے معیارات 2027 کے وسط تک متعارف کرائے جانے کی توقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبے کامیاب ہو گئے تو شہری فضائی سفر میں ایک بڑا انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔

مستقبل کے اثرات

ایئر ٹیکسیاں شہروں کے اندر مختصر فاصلے کے سفر کو تیز اور آسان بنائیں گی، جبکہ سپر سونک مسافر طیارے بین الاقوامی فضائی سفر کا دورانیہ نمایاں حد تک کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان منصوبوں کی کامیابی کے بعد ٹیکنالوجی کی دوڑ میں شامل دیگر ممالک بھی جاپان میں پاکستانی سفیر عبد الحمید کی وزیر انصاف سے اہم ملاقات جیسے سفارتی روابط کے ذریعے ان جدید ٹیکنالوجیز کے حصول میں دلچسپی لے سکتے ہیں۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں