بی بی آصفہ بھٹو زرداری کو جناح ہسپتال میں سٹروک سینٹر بریفنگ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ خاتونِ اول اور رکنِ قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری کو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں مجوزہ جامع سٹروک سینٹر کے قیام کے وژن اور عملدرآمد کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ یہ بریفنگ یونیورسٹی آف ٹولیڈو کے شعبہ نیورولوجی کے پروفیسر، عالمی شہرت یافتہ ویسکیولر اور انٹروینشنل نیورولوجسٹ اور جے پی ایم سی جامع سٹروک پروگرام کے بانی ڈائریکٹر ڈاکٹر سید فضل زیدی نے پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن کے چیئرمین مشتاق چھاپڑا کے ہمراہ دی۔
سندھ میں فالج کے بڑھتے ہوئے کیسز اور طبی ضروریات
بدھ کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق بریفنگ کے دوران ڈاکٹر فضل زیدی نے سندھ میں فالج (سٹروک) کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ساڑھے پانچ کروڑ سے زائد آبادی والے صوبے میں روزانہ تقریباً 500 افراد فالج کا شکار ہوتے ہیں جن میں سے لگ بھگ 50 مریض شدید نوعیت کے فالج میں مبتلا ہوتے ہیں اور انہیں انتہائی خصوصی طبی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے بروقت اور جان بچانے والے علاج کی فراہمی کے لئے عوامی صحت کے نظام میں ایک جامع سٹروک سینٹر کے قیام کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
جامع سٹروک سینٹر کی اہمیت اور موجودہ صورتحال
خاتونِ اول کو بتایا گیا کہ اگرچہ این آئی سی وی ڈی (NICVD) اور ایس آئی سی وی ڈی (SICVD) اسکیمک سٹروک کے مریضوں کو اہم طبی سہولیات فراہم کر رہے ہیں تاہم سندھ میں تاحال ایسا کوئی جامع سٹروک سینٹر موجود نہیں جو فالج کی تمام اقسام بشمول اسکیمک اور ہیموریجک سٹروک، پیچیدہ اعصابی و شریانی ہنگامی صورتحال، جدید نیورو انٹروینشنل طریقہ علاج، نیورو کریٹیکل کیئر اور خصوصی بحالی کی خدمات فراہم کر سکے۔ ڈاکٹر فضل زیدی نے بتایا کہ یہ منصوبہ پاکستان سٹروک انیشی ایٹو کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے جو امریکہ میں قائم ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے اور پاکستان میں فالج کے علاج کو فروغ دینے کے لئے کام کر رہا ہے۔ مزید برآں، صحت اور دیگر شعبوں کی بہتری کے لیے نئے ماڈلز کا اطلاق وقت کی اہم ضرورت ہے۔
طویل المدتی وژن اور پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن کا کردار
مشتاق چھاپڑا نے عوامی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لئے پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن کے دیرینہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ فاؤنڈیشن سٹریٹجک فلاحی شراکت داریوں کے ذریعے جے پی ایم سی میں عالمی معیار کے طبی ڈھانچے کی ترقی اور جدید طبی سہولیات تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کے لئے تعاون جاری رکھے گی۔ وفد نے آئندہ تین سے پانچ برسوں میں پاکستان کا پہلا سرکاری شعبے کا جامع سٹروک نیٹ ورک قائم کرنے کا طویل المدتی وژن بھی پیش کیا۔ اس منصوبے کے تحت سٹروک نیورولوجسٹ اور نیورو انٹروینشنل ماہرین کی تربیت، علاقائی سٹروک مراکز کی توسیع، ہنگامی ریفرل نظام کو مضبوط بنانا، علاج کے معیاری پروٹوکول نافذ کرنا اور ضلعی اسپتالوں کو مربوط ٹیلی سٹروک نیٹ ورک سے منسلک کرنا شامل ہے۔
خاتونِ اول کی کاوشوں کو سراہنے کا عزم
خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے پاکستان سٹروک انیشی ایٹو، پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن اور جے پی ایم سی کی جانب سے پاکستان میں فالج کے علاج کو بہتر بنانے کی مشترکہ کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے خصوصی سٹروک سہولیات کو مضبوط بنانے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے قابلِ تدارک اموات اور عمر بھر کی معذوری میں کمی لانے کے لئے ایسے تمام اقدامات کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا جن سے قیمتی جانیں بچانے اور مریضوں کی صحت یابی کے نتائج بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ جیسا کہ حکومت نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے کوشاں ہے، اسی طرح صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری بھی ملک کے روشن مستقبل کی ضامن ہے۔ یقیناً، بہتر انفراسٹرکچر ملک کی معاشی اور سماجی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
اجلاس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ جے پی ایم سی جامع سٹروک سینٹر کو سرکاری شعبے کے ایک تاریخی صحت منصوبے کے طور پر آگے بڑھایا جائے گا جو موجودہ طبی سہولیات کی تکمیل کرتے ہوئے سندھ میں فالج کے علاج کے نظام کو مزید مضبوط بنائے گا اور سندھ و پاکستان کے عوام کو اعلیٰ معیار کی خصوصی طبی خدمات تک رسائی فراہم کرے گا۔ اس موقع پر میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب بھی موجود تھے۔