یومِ استحصال کشمیر پر ایف پی سی سی آئی کا کشمیریوں سے یکجہتی کا اعادہ

کراچی (نمائندہ خصوصی)۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے بتایا ہے کہ 5 اگست 2026 کو بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں فوجی محاصرے کے سات سال مکمل ہونے پر ایف پی سی سی آئی ہیڈ آفس کراچی، ایف پی سی سی آئی پریزیڈنٹ سیکریٹریٹ اسلام آباد اور پاکستان کے دیگر بڑے شہروں میں اعلیٰ سطحی قومی اجتماعات کا انعقاد کیا گیا۔
کاروباری برادری کا کشمیری عوام کے لیے قومی عزم
عاطف اکرام شیخ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ان اعلیٰ سطحی اجتماعات میں ممتاز صنعت کاروں، برآمد کنندگان، چیمبرز کے صدور، ٹریڈ ایسوسی ایشنز کے رہنماؤں، شہری نمائندوں اور حریت قیادت نے شرکت کی۔ انہوں نے کاروباری برادری کے قومی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پوری کاروباری برادری اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار معاشی خوشحالی اور امن کا انحصار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازعے کے منصفانہ حل سے جڑا ہوا ہے، اور کوئی بھی معاشی جبر یا فوجی ظلم ان کے حق خودارادیت کو نہیں دبا سکتا۔ جیسا کہ آزاد کشمیر الیکشن کمیشن نے کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، اسی طرح ایف پی سی سی آئی بھی کشمیر کے حقِ خودارادیت کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔
معاشی تباہی اور عالمی برادری کی ذمہ داری
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے مقبوضہ وادی کی معاشی تباہی اور تجارتی شعبے کی اخلاقی ذمہ داری پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تجارتی اور صنعتی شعبوں کے نمائندوں کی حیثیت سے ہماری یہ گہری اخلاقی اور سفارتی ذمہ داری ہے کہ ہم بین الاقوامی معاشی اور تجارتی فورمز پر مظلوم کشمیریوں کی آواز کو بلند کریں۔ ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر آصف سخی نے کہا کہ جاری فوجی محاصرے نے نہ صرف انسانی حقوق کا سنگین بحران پیدا کیا ہے؛ بلکہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے مقامی معاشی ڈھانچے کو بھی باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی تجارتی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اب مزید خاموش نہیں رہ سکتیں۔
علاقائی اتحاد اور یکجہتی کا اظہار
ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر طارق جدون نے تمام چیمبرز آف کامرس کے درمیان علاقائی اتحاد پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا یہ اجتماع پاکستان کے تمام صوبوں کے علاقائی چیمبرز اور تجارتی اداروں کی غیر منقسم یکجہتی کا عکاس ہے۔ ٹاؤن میونسپل کارپوریشن ڈسٹرکٹ ساؤتھ (ٹی ایم سی ساؤتھ) کے چیئرمین منصور شیخ نے شہری اور کاروباری قیادت کو متحد کرنے پر ایف پی سی سی آئی کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی نے اس اہم قومی مقصد کے لیے تجارتی رہنماؤں، شہری انتظامیہ اور حریت نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے قابل ستائش مثال قائم کی ہے۔ اسلام آباد میں کشمیر چوک اور فیصل مسجد انڈر پاس تعمیر ہوں گے، جو اس عزم کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ مقامی حکومتیں اور شہری ادارے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کو مسترد کرنے اور اپنے کشمیری بھائیوں کی حمایت میں کاروباری برادری اور قوم کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔
حریت قیادت اور حکومتی عزم
کل جماعتی حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) کے سینئر نمائندے شیخ عبدالمتین نے ایف پی سی سی آئی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم صدر ایف پی سی سی آئی جناب عاطف اکرام شیخ اور ادارے کی قیادت کے بے حد مشکور ہیں جو کشمیر کے مسئلے کو پاکستان کے شہری اور معاشی بیانیے میں مسلسل سرِ فہرست رکھے ہوئے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل پی آئی ڈی محترمہ ارم تنویر نے کراچی میں ایف پی سی سی آئی ہیڈ آفس میں منعقدہ سیشن میں شرکت کی اور حق خودارادیت کے لیے کشمیری عوام کی انتھک اور جائز جدوجہد میں حکومت پاکستان کی جانب سے اخلاقی، سیاسی، قانونی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ان کے خیالات پاکستان اور جائیکا کا ترقیاتی شراکت داری مزید وسعت دینے پر اتفاق جیسے اہم قومی و بین الاقوامی معاہدوں کی طرح اہمیت کے حامل ہیں۔