گورنر پنجاب سے لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل کی ملاقات

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے ملاقات کی اور صوبے میں صنعتی و کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، صنعتوں کو درپیش مشکلات اور کاروباری ماحول میں بہتری کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
صنعتی ترقی کے لیے پالیسی سازی میں مشاورت ناگزیر: گورنر پنجاب
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ پائیدار صنعتی ترقی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو پالیسی سازی میں شامل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھے بغیر کیے گئے فیصلے طویل المدتی نتائج نہیں دے سکتے۔ حکومت جامع اور مشاورتی پالیسی سازی پر توجہ دے رہی ہے اور کاروباری برادری کے خدشات کو دور کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ جیسا کہ اسلام آباد کو سرسبز اور ماحول دوست بنانے کیلئے شجرکاری مہم کے ثمرات عوام تک پہنچ رہے ہیں، اسی طرح صنعتی پالیسیوں میں بھی شفافیت لائی جائے گی۔
گورنر پنجاب نے مشکل معاشی حالات کے باوجود سرمایہ کاری جاری رکھنے پر کاروباری برادری کو سراہتے ہوئے اسے حب الوطنی کا مظہر قرار دیا اور یقین دلایا کہ صنعتکاروں کو درپیش مسائل کو متعلقہ اعلیٰ حکام تک پہنچایا جائے گا۔

صنعتوں کی منتقلی کے فیصلے زمینی حقائق کے مطابق ہوں: فہیم الرحمن سہگل
لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے گورنر پنجاب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گورنر ہاؤس کی جانب سے کاروباری برادری کے مسائل پر فوری ردعمل حکومت کی سنجیدگی کا عکاس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور کے مختلف صنعتی علاقوں میں 1,400 سے زائد صنعتیں کام کر رہی ہیں جو لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہیں۔ تاہم، یہ صنعتیں بلند کمرشلائزیشن فیس اور انتظامی رکاوٹوں جیسی مشکلات کا شکار ہیں، جس سے صنعتی سرگرمیوں کا تسلسل متاثر ہو رہا ہے۔
صدر لاہور چیمبر نے مطالبہ کیا کہ موجودہ صنعتی علاقوں کو باقاعدہ صنعتی زونز کا درجہ دیا جائے اور کمرشلائزیشن فیس میں خاطر خواہ کمی کی جائے تاکہ روزگار کے مواقع محفوظ رہ سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح آسان تاجر اسکیم تاجروں کو رسمی معیشت میں شامل ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے، اسی طرح صنعتی علاقوں کی ریگولرائزیشن سے معاشی استحکام آئے گا۔
فہیم الرحمن سہگل نے صنعتی منتقلی کے مجوزہ منصوبوں میں نجی شعبے کی مؤثر شمولیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صنعتکاروں کے اعتماد اور مشاورت کے بغیر کوئی بھی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ صنعتیں کئی دہائیوں کی سرمایہ کاری اور محنت سے قائم ہوتی ہیں، اس لیے منتقلی کے فیصلوں میں متبادل سہولیات، کاروباری لاگت، انفراسٹرکچر اور اسٹیک ہولڈرز کی رائے کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔ یاد رہے کہ نئے انتظامی یونٹس بنانے کی طرف عملی قدم اٹھانا حکومتی ترجیحات میں شامل ہے، جس کا اثر صنعتی زونز کی پالیسی پر بھی پڑ سکتا ہے۔