شہری منصوبہ بندی میں تاخیر معاشی ترقی کی رفتار متاثر کر رہی ہے

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے پاکستان میں ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے مسائل کے حل، سفری سہولیات میں بہتری اور معاشی ترقی کے لیے مربوط اور پائیدار شہری و علاقائی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر منصوبہ بندی سے ایسے شہر بنائے جا سکتے ہیں جو کاروبار، سرمایہ کاری اور عوام کے بہتر معیارِ زندگی کے لیے سازگار ہوں۔
وہ لاہور چیمبر میں انسٹی ٹیوٹ آف پلانرز پاکستان (IPP) اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کے مشترکہ تعاون سے منعقدہ بین الاقوامی سیمینار بعنوان ”پاکستان میں ٹرانسپورٹ، شہری و علاقائی منصوبہ بندی کی عمومی صورتحال اور پائیدار مستقبل کی راہ“ کی صدارت کر رہے تھے۔ اس موقع پر انسٹی ٹیوٹ آف پلانرز پاکستان کے صدر پلانر عمر فاروق بھی موجود تھے۔
بین الاقوامی اور قومی ماہرین کی شرکت
سیمینار میں بین الاقوامی مقررین میں امریکہ سے ITE کی انٹرنیشنل وائس پریزیڈنٹ اور انٹرنیشنل پریزیڈنٹ الیکٹ ہیالہ ڈارمن، امریکہ سے پلان کنسلٹنگ کے صدر رابرٹ جی شفّر، اور فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کے پلانر اِن ریزیڈنس ڈینس جے سمتھ شامل تھے، جبکہ سنگاپور سے SC&M گروپ کے بانی ای۔ کھونگ کی میکس نے زوم کے ذریعے شرکت کی۔
دیگر مقررین میں ایم پی اے احمد اقبال چوہدری، چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی، ایل ڈی اے، چیف میٹروپولیٹن پلانر ایل ڈی اے فیصل مسعود، ڈاکٹر عبیداللہ ندیم، پروفیسر و چیئرمین شعبہ سٹی اینڈ ریجنل پلاننگ، یو ای ٹی لاہور، ڈاکٹر شبین الحسن زیدی، ڈاکٹر محمد ندیم، ڈاکٹر فریحہ طارق، انجینئر اسلم قاضی، پلانر ظفر الحق، آرکیٹیکٹ زعیم جاوید راجہ، پلانر محمد مسعود نواز، آرکیٹیکٹ ماریا نیاز ی، انجینئر وجاہت احمد، سمیع اللہ اشفاق اور انجینئر جمشید محمود شامل تھے۔
شہری مسائل اور مربوط حکمت عملی
فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی کی وجہ سے شہروں کو ٹریفک کے دباؤ، ناکافی پبلک ٹرانسپورٹ، پارکنگ، پیدل چلنے کی سہولیات، بنیادی ڈھانچے اور ضروری خدمات تک رسائی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری منصوبہ بندی کو وقتی اور محدود اقدامات کے بجائے ایک جامع انداز میں آگے بڑھانا ہوگا، جس میں ٹرانسپورٹ، زمین کے استعمال، رہائش، تجارت، صنعت اور ماحولیات کو ایک ساتھ مدنظر رکھا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہتر شہری منصوبہ بندی کا براہ راست تعلق معاشی سرگرمیوں سے ہے۔ جیسا کہ پاکستان، آذربائیجان دوطرفہ تجارت اور دیگر معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بنیادی ڈھانچے کی اہمیت مسلمہ ہے۔ مؤثر ٹرانسپورٹ نظام سے سفر کا وقت اور کاروباری و لاجسٹک اخراجات کم ہوتے ہیں جبکہ مارکیٹوں اور سرمایہ کاری کے مواقع تک رسائی بہتر ہوتی ہے۔
نجی شعبے اور ٹیکنالوجی کا کردار
صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ حکومت، شہری منصوبہ سازوں، جامعات، انجینئرز، نجی شعبے اور کاروباری برادری کے درمیان مضبوط تعاون ضروری ہے تاکہ ایسی شہری پالیسیاں بنائی جا سکیں جو عملی طور پر نافذ بھی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر کی ترقی، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور جدید و پائیدار سفری سہولیات کے فروغ میں نجی شعبہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا کی بنیاد پر منصوبہ بندی اور دنیا کے بہترین تجربات سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا، جس کے ذریعے ٹریفک کی بہتر منصوبہ بندی، ٹریفک مینجمنٹ اور شہروں کو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی، شہری سیلاب اور دیگر نئے خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی بہتر منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔
ماہرین کی آراء
انسٹی ٹیوٹ آف پلانرز پاکستان کے صدر پلانر عمر فاروق نے کہا کہ پاکستان کے ٹرانسپورٹ اور شہری ترقی کے مسائل پر غور کرنے کے لیے ملکی اور بین الاقوامی ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بین الاقوامی ماہرین میں ہیالہ ڈارمن نے ٹرانسپورٹ منصوبہ بندی کے حوالے سے عالمی تجربات، رابرٹ جی شفّر نے طویل مدتی ٹرانسپورٹ منصوبہ بندی کے لیے سفری ضروریات کی پیش گوئی، اور ڈینس جے سمتھ نے کمیونٹی کو مستقبل کے خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے جدید ٹولز پر بات کی۔ سنگاپور سے ای۔ کھونگ کی میکس نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد کی بندش اور اس کے نتیجے میں خطے میں تجارتی راستوں کی تبدیلی کے اثرات پر روشنی ڈالی۔
قومی ماہرین میں احمد اقبال چوہدری نے ٹرانسپورٹ کے نظام کے گورننس چیلنجز، جبکہ فیصل مسعود نے تجارتی سہولت کاری کے حوالے سے لاہور ماسٹر پلان 2050 پر گفتگو کی۔ یو ای ٹی لاہور کے پروفیسر ڈاکٹر عبیداللہ ندیم نے اپنے کلیدی خطاب میں پاکستان کے شہری مستقبل کو نئے انداز سے دیکھنے اور شہری منصوبہ سازوں کے بدلتے ہوئے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی، جس کی اہمیت جدید اور ماحول دوست انفراسٹرکچر کی تعمیر میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔