ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بحالی کیلئے لاہور چیمبر اور پی ٹی ایم اے کا مشترکہ لائحہ عمل

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ ملکی ٹیکسٹائل صنعت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے، برآمدات میں اضافے اور صنعتی ترقی کے لیے پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (پی ٹی ایم اے) اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان ایک اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صنعت کے استحکام اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں پی ٹی ایم اے کے مرکزی صدر وقار علی اور چیئرمین نبیل محمود کی قیادت میں وفد نے لاہور چیمبر کے قائم مقام صدر تنویر احمد شیخ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر لاہور چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن محسن بشیر سمیت ارشاد جاوید، میاں عاصم جاوید، شیخ رفاقت، رانا محمد رمضان، ہمایوں خان اور عبدالروف خان بھی شریک ہوئے۔
ٹیکسٹائل سیکٹر کے مسائل پر تفصیلی غور

اجلاس کے دوران شرکاء نے ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش موجودہ معاشی چیلنجز، پیداواری لاگت میں مسلسل اضافے، توانائی کے بلند نرخ، برآمدی شعبے کی مشکلات اور عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بڑھانے کے لیے درکار اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ مختلف برآمدی شعبوں کی طرح ٹیکسٹائل کے لیے بھی حکومتی معاونت ضروری قرار دی گئی۔ پی ٹی ایم اے کے نمائندوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل صنعت پاکستان کی برآمدات، روزگار کی فراہمی اور زرمبادلہ کے حصول کا بنیادی ستون ہے، اس لیے صنعت کو درپیش مسائل کا فوری اور موثر حل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وفد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسی کاروبار دوست پالیسیاں متعارف کرائی جائیں جو سرمایہ کاری میں اضافہ، پیداواری سرگرمیوں کے فروغ اور برآمدات کے استحکام میں معاون ثابت ہوں۔
مستقبل کا لائحہ عمل
اس موقع پر قائم مقام صدر لاہور چیمبر تنویر احمد شیخ نے کہا کہ لاہور چیمبر صنعتی و تجارتی شعبے کے مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نجی شعبے، کاروباری تنظیموں اور متعلقہ سرکاری اداروں کے درمیان مضبوط روابط ہی پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاہور چیمبر اور پی ٹی ایم اے صنعت کے مشترکہ مفادات کے تحفظ، سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری سہولتوں میں اضافے اور صنعتی شعبے کو درپیش رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے تاکہ ملکی معیشت کو مزید مضبوط اور مستحکم بنایا جا سکے۔