راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں حج 2027 کے لیے قرعہ اندازی

راولپنڈی (نمائندہ خصوصی)۔ راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) میں حج 2027 کے لیے ایک پروقار اور شفاف تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ادارے کے دو خوش نصیب ملازمین کا انتخاب عمل میں آیا۔
آر ڈی اے میں شفاف قرعہ اندازی کا انعقاد

راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ڈائریکٹر ایڈمن، نوشین اسرار کی خصوصی ہدایت پر آر ڈی اے کانفرنس روم میں حج برائے سال 2027ء کے لیے اہل ملازمین کے درمیان شفاف قرعہ اندازی کا عمل مکمل کیا گیا۔ اس تقریب کی صدارت ڈائریکٹر ایڈمن نوشین اسرار نے کی، جبکہ اس موقع پر ڈائریکٹر فنانس مسعود احمد، دیگر اعلیٰ افسران، ملازمین اور یونین کے عہدیداران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ یہ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ڈاکٹر مصدق ملک کی سربراہی میں NITB امور پر اہم اجلاس جیسے انتظامی اقدامات کی طرح آر ڈی اے بھی اپنے اندرونی معاملات میں شفافیت کو فوقیت دے رہا ہے۔
دو ملازمین کا انتخاب

تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد گریڈ 1 تا 16 کے اہل ملازمین کے لیے حج کی سعادت حاصل کرنے کی غرض سے باقاعدہ قرعہ اندازی کی گئی۔ قرعہ اندازی کے نتیجے میں دو خوش نصیب ملازمین عاصم نواز کھوکھر (سٹینو، گریڈ 15) اور تراب الحسن (جونیئر کلرک، گریڈ 11) حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے منتخب قرار پائے۔ تقریب میں موجود شرکاء نے کامیاب ملازمین کو دلی مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ یاد رہے کہ جیسے وزیر خزانہ کی زیر صدارت ایکسیس ٹو فنانس پلان پر اہم اجلاس میں معاشی شفافیت پر زور دیا گیا، اسی طرح آر ڈی اے کی انتظامیہ بھی اپنے ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے پرعزم ہے۔
شفاف طرزِ عمل اور میرٹ پر زور
اس موقع پر شرکاء نے ڈائریکٹر ایڈمن نوشین اسرار کی جانب سے شفاف اور منصفانہ طریقہ کار اپنانے پر ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ڈائریکٹر ایڈمن نوشین اسرار نے اپنے خطاب میں کہا کہ ادارے کے تمام معاملات میں شفافیت، میرٹ اور انصاف کو ہر صورت یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ آر ڈی اے پر عوام اور ملازمین کا اعتماد مزید مستحکم ہو۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام افسران اور ملازمین دیانت داری، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور قواعد و ضوابط کی مکمل پاسداری کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مضبوط، شفاف اور جوابدہ ادارے ہی عوام کا اعتماد حاصل کرتے ہیں۔ آر ڈی اے اس سے قبل بھی پاکستان کے بڑے پن بجلی منصوبوں کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ جیسے پیچیدہ امور پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ عوامی فلاح کے منصوبوں کو بہتر بنایا جا سکے۔