آر ڈی اے کا تیرہ غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کیخلاف ایکشن

راولپنڈی (نمائندہ خصوصی)۔ کمشنر راولپنڈی ڈویژن و ڈائریکٹر جنرل راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) سلمان غنی کی خصوصی ہدایات پر میٹروپولیٹن پلاننگ اینڈ ٹریفک انجینئرنگ ڈائریکٹوریٹ نے غیر قانونی و غیر منظور شدہ ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی لاتے ہوئے 13 ہاؤسنگ سکیموں اور لینڈ سب ڈویژن منصوبوں کے مالکان و چیف ایگزیکٹو آفیسرز کو باضابطہ طور پر شوکاز نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔ جیسا کہ ڈسکوز کی نجکاری کے لیے پی آئی اے کا ماڈل اپنانے کی منظوری دی جا چکی ہے، اسی طرح آر ڈی اے بھی اپنی نگرانی کے نظام کو مزید فعال کر رہا ہے۔ جن ہاؤسنگ سکیموں کو شوکاز نوٹس جاری ہوئے ہیں ان میں بحریہ ٹاؤن فیز VIII ایکسٹینشن، کیپیٹل سمارٹ سٹی فیز III، قرطبہ سٹی ایکسٹینشن، بلیو سکائی گارڈن، ایکوا گرین فارمز، مغل فارمز (مری جبار روڈ)، کوہستان انکلیو ایکسٹینشن-I، اظہر کیانی، فخر کیانی اور ندیم قریشی کے فارم ہاؤسز (کلر سیداں روڈ، سگری)، محمد جمیل کا لینڈ سب ڈویژن (کلر سیداں روڈ، شاہ باغ)، علی پراپرٹیز اینڈ ڈویلپرز کا لینڈ سب ڈویژن منصوبہ (سرور شاہین روڈ، مندرہ)، بھگوال ویلی (رقبہ تراش بلڈرز اینڈ ڈویلپرز)، سلیم بلوچ کے فارم ہاؤسز (مندرہ۔چکوال روڈ، بھکر اڈہ) اور سکھی ٹاؤن شامل ہیں۔
غیر قانونی سرگرمیوں پر کارروائی کا آغاز
ان منصوبوں کے خلاف غیر قانونی ڈویلپمنٹ، پلاٹوں کی غیر قانونی بکنگ، سوشل میڈیا پر غیر قانونی تشہیر اور مارکیٹنگ کے سنگین الزامات ہیں۔ ترجمان آر ڈی اے کے مطابق مذکورہ سکیموں نے پنجاب ڈویلپمنٹ آف سٹیز ایکٹ، 1976ء کی دفعہ 12(5) اور پنجاب ڈویلپمنٹ اتھارٹیز پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیم رولز، 2021ء کے رول 4 کی صریح خلاف ورزی کی ہے۔ آر ڈی اے نے عوام الناس کو سختی سے متنبہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی ہاؤسنگ سکیم میں سرمایہ کاری سے گریز کریں اور کسی بھی سوسائٹی کے جھانسے میں نہ آئیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مفاد کے پیش نظر سرمایہ کاری سے قبل آر ڈی اے سے سوسائٹی کی قانونی حیثیت اور این او سی کی تصدیق ضرور کریں۔
تشہیری مہم اور آن لائن پلیٹ فارمز کیخلاف کارروائی
آر ڈی اے نے متعلقہ سپانسرز اور مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی غیر منظور شدہ سکیموں کی مارکیٹنگ، پلاٹوں کی خرید و فروخت اور ترقیاتی کام بند کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ قانون کے تحت سکیم کے حجم کے مطابق یومیہ 5,000 سے 20,000 روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، غیر قانونی تشہیر کے خلاف کارروائی کے لیے نیب راولپنڈی، ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اسلام آباد اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کو مراسلے ارسال کر دیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ جیسے بی بی آصفہ بھٹو زرداری کو جناح ہسپتال میں سٹروک سینٹر بریفنگ دی گئی تھی، اسی طرح عوامی مفاد کے اداروں کو اب آر ڈی اے کی جانب سے ان غیر قانونی منصوبوں کے بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔ تمام مالکان کو سات روز کے اندر جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، جس کے بعد بلا امتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کمشنر سلمان غنی نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی کمرشل سرگرمیوں اور تجاوزات کے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے گا تاکہ قانون کی عملداری برقرار رہ سکے۔ اس حوالے سے مزید معلومات اور اہم حکومتی فیصلوں کے لیے حکومت کا چار سالہ حج پالیسی کا اعلان، اخراجات بارہ لاکھ روپے سے متعلق تفصیلات کا بھی مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔