مفتی تقی عثمانی کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ دفاعی معاہدے پر خیرمقدم

کراچی (نمائندہ خصوصی)۔ معروف عالم دین مفتی محمد تقی عثمانی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پوری مسلم دنیا کے لیے خوشی اور اطمینان کا باعث قرار دیا ہے۔ اس تاریخی پیش رفت پر حکومتی سطح پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر اطمینان کا اظہار بھی سامنے آیا ہے۔
مشترکہ دفاعی معاہدہ: مسلم امہ کے اتحاد کی علامت
اپنے ایک خصوصی بیان میں مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ تینوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان یہ تاریخی معاہدہ باہمی دفاع، تعاون اور یکجہتی کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں اسلامی دنیا کا یکجا ہونا ناگزیر ہے اور یہ معاہدہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر اس امر کو باعثِ سعادت قرار دیا کہ یہ معاہدہ بیت اللہ کے قرب میں مکہ مکرمہ میں طے پایا، جس سے اس کی اہمیت اور روحانی برکتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔
استحکام اور باہمی اعتماد کا نیا دور
مفتی تقی عثمانی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی حکومتوں کو اس اہم پیش رفت پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ جیسے ترک صدر ایردوان نے مکہ دفاعی معاہدے کو خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم قرار دے دیا ہے، ویسے ہی یہ معاہدہ خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست میں توازن قائم کرے گا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس معاہدے کو مسلم امہ کے اتحاد، باہمی اعتماد اور مشترکہ سلامتی کے استحکام کا ذریعہ بنائے۔ اس سے قبل سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ تاریخی سنگ میل ہے، افتخار علی ملک جیسے اہم شخصیات نے بھی اسے خطے کی معیشت اور سکیورٹی کے لیے ناگزیر قرار دیا تھا۔