سیرامک نان اسٹک پین کا استعمال صحت اور پائیداری کیلئے نامناسب

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ اگر آپ باورچی خانے میں سیرامک نان اسٹک فرائنگ پین استعمال کر رہے ہیں تو شاید اب اس فیصلے پر نظرثانی کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے معروف پروڈکٹ ریویو پلیٹ فارم وائرکٹر (Wirecutter) نے اپنی تازہ رپورٹ میں صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سیرامک نان اسٹک پین خریدنے یا ان پر انحصار کرنے سے گریز کریں، کیونکہ یہ پین اپنی نان اسٹک خصوصیات بہت جلد کھو دیتے ہیں اور طویل مدت میں بہتر انتخاب ثابت نہیں ہوتے۔
سیرامک کوٹنگ کی پائیداری پر سوالات
رپورٹ کے مطابق سیرامک نان اسٹک پین ابتدا میں بہترین کارکردگی دکھاتے ہیں، لیکن چند ماہ کے باقاعدہ استعمال کے بعد ان کی کوٹنگ خراب ہونے لگتی ہے۔ اس کے نتیجے میں کھانا پین کے ساتھ چپکنے لگتا ہے، صفائی مشکل ہو جاتی ہے اور صارف کو جلد نیا برتن خریدنا پڑتا ہے۔ وائرکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سیرامک کوٹنگ والے برتنوں کو عام طور پر روایتی نان اسٹک برتنوں کے محفوظ متبادل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، تاہم عملی تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ ان کی عمر نسبتاً کم ہوتی ہے، اس لیے یہ روزمرہ استعمال کے لیے زیادہ مؤثر انتخاب نہیں ہیں۔
بہتر متبادل برتنوں کا انتخاب
رپورٹ میں باورچی خانے کے لیے سٹین لیس اسٹیل، کاربن اسٹیل اور کاسٹ آئرن کے برتنوں کو زیادہ پائیدار اور قابلِ اعتماد قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ان برتنوں کو درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ کئی سال تک بہترین کارکردگی فراہم کرتے ہیں اور زیادہ درجہ حرارت پر بھی محفوظ رہتے ہیں۔ جیسے کہ ملک میں صنعتی شعبے میں ڈسکوز کی نجکاری کے لیے پی آئی اے کا ماڈل اپنانے کی منظوری دی گئی ہے، اسی طرح گھریلو استعمال کے لیے بھی درست ماڈل کا انتخاب ضروری ہے۔
نان اسٹک برتنوں کے حوالے سے نئی تحقیق
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جدید PTFE نان اسٹک برتن ماضی کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہیں، کیونکہ ان کی تیاری میں پہلے استعمال ہونے والا متنازع کیمیکل PFOA اب استعمال نہیں کیا جاتا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کے نان اسٹک برتن کو زیادہ دیر تک برقرار رکھنے کے لیے اسے انتہائی زیادہ حرارت، دھاتی چمچوں اور سخت صفائی سے بچانا ضروری ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اگر صارفین دیرپا، مضبوط اور قابلِ اعتماد کوک ویئر چاہتے ہیں تو انہیں سیرامک نان اسٹک برتنوں کے بجائے معیاری دھاتی برتنوں کا انتخاب کرنا چاہیے، جو نہ صرف زیادہ عرصہ چلتے ہیں بلکہ مجموعی طور پر بہتر سرمایہ کاری بھی ثابت ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں صارفین کو مختلف حکومت کا چار سالہ حج پالیسی کا اعلان، اخراجات بارہ لاکھ روپے جیسے اہم فیصلوں کی طرح اپنی گھریلو ضروریات کے حوالے سے بھی دور اندیشی سے کام لینا چاہیے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ صحت عامہ اور طویل مدتی بچت کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ناگزیر ہے، جیسا کہ آر ڈی اے کا تیرہ غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کیخلاف ایکشن عوام کے مفاد میں اٹھایا گیا ایک درست اقدام تھا۔