اسلام آباد میں جدید کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کیلئے بولیاں کھلیں گی

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی دارالحکومت میں مارگلہ ہلز کے دامن میں مجوزہ جدید کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کے منصوبے پر پیش رفت جاری ہے، جہاں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) جلد ہی منصوبے کے ٹھیکے کے لیے مالیاتی بولیاں کھولنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس سے قبل وفاقی دارالحکومت کے انتظامی اور تعمیراتی امور میں شفافیت لانے کے لیے مختلف اقدامات اٹھائے گئے ہیں جیسا کہ اسلام آباد کے سرکاری فلیٹس کرائے پر دینے پر افسران کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
منصوبے پر عملدرآمد کی تفصیلات
ذرائع کے مطابق شارٹ لسٹ کیے گئے دونوں مشترکہ منصوبوں (جوائنٹ وینچرز) نے نظرثانی شدہ ڈیزائن اور ضمنی مالیاتی بولیاں سی ڈی اے کو جمع کرا دی ہیں۔ ان دستاویزات کو آئندہ چند روز میں پی پی آر اے کے ای-پی اے ڈی (E-PAD) پورٹل پر اپ لوڈ کیا جائے گا، جس کے تقریباً ایک ہفتے بعد مالیاتی بولیاں کھولی جائیں گی۔ حکومت پاکستان کے اہم منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے حال ہی میں پنجاب میں مصنوعی ذہانت کے فروغ کیلئے مستقل سیکرٹری تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
اسٹیڈیم کی گنجائش اور ڈیزائن
مجوزہ کرکٹ اسٹیڈیم سیکٹر ڈی-12 کے قریب مارگلہ ہلز کے دامن میں تعمیر کیا جائے گا۔ سی ڈی اے حکام کے مطابق اسٹیڈیم میں تقریباً 32 ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی، جبکہ عام شائقین کے لیے اسٹیڈیم سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر 10 ہزار گاڑیوں کی پارکنگ بھی قائم کی جائے گی۔ اسٹیڈیم کا ڈیزائن اس انداز میں تیار کیا جا رہا ہے کہ تماشائیوں کو مارگلہ ہلز کا خوبصورت کھلا منظر بھی دیکھنے کو ملے۔
پی سی بی کا اشتراک اور مستقبل
ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ڈی اے اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اس منصوبے میں دبئی کرکٹ اسٹیڈیم کے ماڈل کو سامنے رکھتے ہوئے جدید سہولیات سے آراستہ اسٹیڈیم تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں صرف راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم ہی بین الاقوامی کرکٹ میچز کی میزبانی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس منصوبے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس سے قبل قومی سطح پر تعمیراتی اور انتظامی معاملات میں نسلہ ٹاور مسماری: وفاقی آئینی عدالت کا سپریم کورٹ احکامات واپس جیسے فیصلے کیے جا چکے ہیں۔
مالیاتی اور فنی پہلو
11.4 ارب روپے لاگت کے اس منصوبے کے لیے دو جوائنٹ وینچر میدان میں ہیں۔ ایک طرف حبیب کنسٹرکشن اور زیڈ کے بی-ای اے جبکہ دوسری جانب لیمار بلڈرز اور بی کے کنسلٹنٹس پرائیویٹ لمیٹڈ مقابلے میں شامل ہیں۔ منصوبہ انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اینڈ کنسٹرکشن (EPC) ماڈل کے تحت مکمل کیا جائے گا، جس کے تحت کمپنیوں نے اپنے تکنیکی ڈیزائنز اور بولیاں جمع کرائی تھیں۔ بعد ازاں منتخب ڈیزائنز میں بہتری کے لیے انہیں نظرثانی شدہ ڈیزائن اور اضافی مالیاتی تجاویز جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ ایک سی ڈی اے عہدیدار کے مطابق تکنیکی ماہرین اس وقت نئے ڈیزائنز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جائزہ مکمل ہونے کے بعد رپورٹ اور ضمنی مالیاتی بولیاں ای-پی اے ڈی پورٹل پر اپ لوڈ کی جائیں گی، جس کے ایک ہفتے بعد مالیاتی بولیاں کھول دی جائیں گی۔
اراضی کا استعمال
ذرائع کے مطابق مجوزہ اسٹیڈیم اولمپک ولیج کے تقریباً 175 ایکڑ رقبے میں سے 50 ایکڑ زمین پر تعمیر کیا جائے گا۔ یہ مقام زون تھری میں واقع ہے، جہاں کھیلوں اور تفریحی سرگرمیوں کی اجازت ہے، تاہم منصوبے سے منسلک تجارتی علاقوں اور ہوٹل کی تعمیر کے لیے وفاقی حکومت سے باقاعدہ منظوری درکار ہوگی۔